25 دسمبر 2013 - 20:30
سید الشہدا(ع) کی زیارت عرش پر اللہ کی زیارت ہے

آیت اللہ العظمی وحید خراسانی نے امام صادق علیہ السلام کی حدیث سے استناد کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ امام حسین (ع) کی زیارت کے لیے کربلا گئے یا جاتے رہتے ہیں گویا وہ خدا کی زیارت کے لیے عرش الہی پر جاتے ہیں۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سید الشہدا مظلوم کربلا(ع) کے چہلم کی مناسبت سے آیت اللہ العظمیٰ وحید خراسانی نے اپنے بیان میں کربلا کی طرف سفر کی عظمت کو بیان کرنے ہوئے کہا کہ سید الشہدا(ع) کے زائرین اگر یہ جان لیں کہ انہوں نے کس کی زیارت کے لیے سفر کیا ہے تو وہ آپے سے باہر ہو جائیں۔ انہوں نے مزید تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات ان کے کلام میں موجود ہے جن کا کلام گویا اللہ کا کلام ہے اس لیے کہ یہ حجت الہی ہیں ان کے کلام میں یہ بات موجود ہے کہ امام حسین (ع) کی زیارت گویا عرش پر اللہ کی زیارت ہے۔ قُلْتُ لِأَبِی عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام: مَا لِمَنْ زَارَ قَبْرَ الْحُسَیْنِ علیه السلام؟ قَالَ: کَانَ کَمَنْ‏ زَارَ اللَّهَ‏ فِی‏ عَرْشِهِ‏. قَالَ: قُلْتُ: مَا لِمَنْ زَارَ أَحَداً مِنْکُمْ [أَحَدَکُمْ‏]؟ قَالَ: کَمَنْ زَارَ رَسُولَ اللَّهِ‏ صلی الله علیه وآله.  راوی نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا جو شخص قبر امام حسین (ع) کی زیارت کرے اس کا کیا مقام ہے؟ فرمایا: وہ ایسے ہے کہ گویا اس نے عرش پر اللہ کی زیارت کی۔ راوی کا کہنا ہے کہ میں نے کہا جو شخص آپ باقی ائمہ میں سے کسی ایک کی زیارت کرے اس کا کیا مقام ہے؟ فرمایا: وہ ایسے ہے جیسے اس نے رسول خدا(ص) کی زیارت کی۔آیت اللہ وحید خراسانی نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ عقل کو مبہوت کرنے والی حدیث یہ ہے  عن ابن محبوب، عن اسحاق بن عمار، قال: سمعت أبا عبد الله علیه السلام یقول: لیس نبیّ فی السموات والأرض إلا ویسألون الله تبارک وتعالی أن یؤذن لهم فی زیارة الحسین علیه السلام ففوج ینزل ففوج یعرج. زمین اور آسمان میں کوئی نبی ایسا نہیں ہے جو اللہ سے یہ دعا نہ کرے کہ خدا اسے امام حسین (ع) کی زیارت کی اجازت دے پس خدا کی اجازت سے انبیاء جوق در جوق آسمان سے نازل ہوتے ہیں ( اور امام حسین (ع) کی زیارت کرنے آتے ہیں)۔اس مرجع تقلید نے اپنے بیانیہ میں مزید تاکید کرتے ہوئے کہا: تمام انبیاء یعنی حضرت آدم جو صفی اللہ ہیں جو مسجود ملائکہ ہیں،  حضرت نوح جنہوں نو سو پچاس سال لوگوں کو دعوت توحید دی اور نجی اللہ قرار پائے حضرت ابراہیم جنہوں نے کلمات الہیہ کا امتحان پاس کیا اور نبوت و رسالت اور خلت کے بعد مقام امامت پر فائز ہوئے حضرت موسی(ع) جن کے بارے میں خدا نے فرمایا: ونادیناه من جانب الطور الأیمن وقربناه نجیا، اور وہ کلیم اللہ ہو گئے اور حضرت عیسی(ع) جو مقام روح اللہ و کلمۃ اللہ پر فائز ہیں یہ تمام انبیاء خداوند تبارک و تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ خدا انہیں اجازت دے تاکہ وہ امام حسین(ع) کی زیارت کے لیے کربلا جائیں۔ اس گنبد طلائی کے نیچے کیا واویلا ہے انبیاء اوصیاء اور اولوا العزم پیغمبر وہاں موجود ہیں ایک گروہ آسمان سے وہاں آتا ہے ایک واپس جا رہا ہوتا ہے اس گروہ میں فرشتے ہیں انبیاء ہیں مرسلین ہیں اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔انہوں نے مزید تاکید کی کہ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس نعمت کی قدر کو سمجھتے ہیں اور  کربلا کی طرف سفر پر گئے ہیں اور جاتے رہتے ہیں وہ تمام گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں اس کے بعد وہ ہوشیار رہیں کہ پھر گناہوں میں آلودہ نہ ہوں خدا اور امام زمانہ کو ہر گز فراموش نہ کریں، ہر مہینہ ایک مرتبہ قرآن ختم کریں اور اسے رسول خدا (ص) سے امام زمانہ (ع) تک تمام ائمہ کو ہدیہ کریں کہ ان کا یہ عمل امام زمانہ(ع) کے ساتھ محشور ہونے کا سبب بنے گا اور جو امام زمانہ (ع) کے ساتھ ہے وہ تمام انبیاء کے ساتھ ہے۔آیت اللہ وحید خراسانی نے مزید کہا: جو لوگ ایران سے کربلا زیارت کے لیے مشرف ہوتے ہیں ان کو چاہیے کہ امام ہشتم(ع) کی نیابت میں جائیں اور جو لوگ باقی ملکوں سے جاتے ہیں وہ باقی ائمہ (ع) کی نیابت میں زیارت کریں تاکہ جس امام کی نیابت میں وہ اس معنوی سفر پر نکلیں گے اس امام کی ان پر خاص توجہ ہو گی۔ اور خود امام حسین (ع) کی بھی ان پر مخصوص نظر ہو گی چونکہ وہ امام معصوم(ع) کی نائب بن کر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲